ہاسن،27؍جون(ایس او نیوز) ہاسن کے ارکل گوڈ ٹاون میں ایک طالب علم کو اس وقت کورونا وائرس (کووڈ ۔19) سے متاثر پایا گیا جب وہ میٹرک امتحان دے رہا تھا۔ انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امتحانات کے تیسرے دن یعنی آج سنیچر کو اس بات کا پتہ چلا کہ جو 16 سالہ لڑکا ریاضی کا امتحانی پرچہ لکھ رہا ہے کہ اُس کی رپورٹ کورونا پوزیٹیو آئی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ لڑکا حال ہی میں ڈینگی کی بیماری سے صحت یاب ہوا ہے۔ دو دن قبل انفلوئنزا جیسی بیماری کی علامات ظاہر ہونے کے بعد اس کے تھوک کے نمونے کو جانچ کے لئے بھیجا گیا تھا‘‘۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق وزیر تعلیم ایس سریش کمار نے لڑکے میں کورونا کے اثرات پائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لڑکے کی رپورٹ پوزیٹیو آتے ہی ضلعی انتظامیہ نے امتحان گاہ کے چیف کو خبر دی تھی جس کے بعد متعلقہ لڑکے کو الگ کمرے میں بٹھایا گیا جہاں بیٹھ کر اُس نے اپنا پرچہ مکمل کیا۔ سریش کمار نے یہ بھی بتایا کہ جب بچوں کو امتحان گاہ میں داخل کیا جارہا تھا تو بدن کا درجہ حرارت چیک کیا گیا تھا تو اُس میں کورونا کی کوئی علامات نہیں پائی گئی تھی اور ٹمپریچر نارمل تھا۔ اس دوران ڈی ڈی پی آئی نے اس بات کی جانکاری دی ہے کہ جس کمرے میں متعلقہ لڑکا پرچہ لکھ رہا تھا وہاں دوسرے 19 طلبہ بھی امتحان دے رہے تھے۔ سریش کمار نے بتایا کہ محکمہ صحت کے ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی اب اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ اُسے بقیہ امتحانی پرچے لکھنے کی اجازت دینی چاہئے یا نہیں۔
سریش کمار نے بتایا کہ محکمہ نے سنیچر کو اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ آج کے واقعے کو دیکھتے ہوئے اُن طلبا کو آگے کے امتحانی پرچے لکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جن کے تھوک کے نمونے کوویڈ جانچ کے لئے روانہ کئے گئے ہیں۔ البتہ ایسے تمام طلبہ کو فریش کینڈیٹ کے طورپر سپلیمنٹری امتحان میں پرچے لکھنے کا موقع دیا جائے گا۔